چھ افرادنے بیوہ خاتون کی ہمشیرہ اغوا کر لی ،پانچ ماہ بعد پولیس تھا نہ گکھڑ نے عدالتی حکم پر اغوا کا مقدمہ درج کرلیا

چھ افرادنے بیوہ خاتون کی ہمشیرہ اغوا کر لی ،پانچ ماہ بعد پولیس تھا نہ گکھڑ نے عدالتی حکم پر اغوا کا مقدمہ درج کرلیا

گکھڑ( ڈاکٹر عصمت علوی)چھ افرادنے بیوہ خاتون کی ہمشیرہ اغوا کر لی ،پانچ ماہ بعد پولیس تھا نہ گکھڑ نے عدالتی حکم پر اغوا کا مقدمہ درج کرلیا،مدعیہ کا پولیس پرملزمان کی حراست کے باوجود چھوڑنے اور اسے ہراساں کرنے کا الزام،وحدت کالونی ،ٹاور روڈ کھیالی کی رہائشی پچپن سالہ بیوہ خاتون ف ش دختر م ح چ نے پولیس تھا نہ گکھڑ کو دی گئی تحریری درخواست میں کہا، کہ وہ مورخہ 26 جون2020ءشام چھ ساڑھے چھ بجے شام گکھڑمنڈی کے نت کلاں روڈ پر مقیم اپنی ہمشیرہ ش بیوہ ع کے گھر موجود تھی ،کہ اس دوران چک نظام کلاں کے رہائشی تین بھائی ع ،علی ر،ز پسران ظ س انکی والدہ ن بی بی اور دو کس نامعلوم آئے اور میری بیوہ بہن ش بیوہ ع سے کہا کہ انکی بیٹی زرتاشہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے،ہمارے ساتھ چلیں،تو میری بہن ش کی آہ بکاہ پر اہل محلہ کی موجودگی میں ع اسکوزبردستی موٹر سائیکل پراغوا کرکے لے گیا، جبکہ دیگرز کیری ڈبہ پر فرار ہو گئے،جہاں پر انہوں نے میری بھانجی – ز- سے – ع- نے ناصرف زبردستی نکاح کر کے میری بیوہ بہن کومحبوس بنائے رکھا،اور بعد ازاں اسے نامعلوم مقام پر لے گئے ، پانچ ماہ گذرنے کے باوجود میری مغوی بہن کا کوئی پتہ نہیں ،شبہ ہے کہ ملزمان نے اسے قتل کرکے اسکی نعش غائب کردی، جس کی درخواست کے باوجود پولیس گکھڑ نے مقدمہ درج نہ کرنے پر عدالت کے حکم پر مغویہ بہن کے اغوا کا مقدمہ نامزد ملزمان کیخلاف درج ہونے اور پولیس گکھڑ کی طرف سے ملزمان گرفتار – ع- اور -ز-وغیرہ کو گرفتار کرنے کے باوجود تفتیشی آفیسر اے ایس آئی – ب- نے ملزمان سے ساز باز کر کے انہیں چھوڑ دیا، الٹا اے ایس آئی – ب- نے سرکاری گاڑیوں کے علاوہ پرائیویٹ کار پردس بارہ اہلکاروں کے ہمراہ میرے گھر ریڈ کرکے ناصرف مجھے ہراساں کیا، بلکہ مجھے ملزمان سے صلح کرنے کیلئے دباﺅ ڈالتے رہے ، ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے مدعیہ – ف ش- نے بتایا کہ ملزمان بآاثر ہیں،جنہوں نے ناصرف میری بیوہ بہن اغوا کرلی بلکہ میری بھانجی سے زبردستی نکاح کرکے میری بہن کو غائب کردیا، در در کی ٹھوکریں کھا نے کے باوجودعدالتی حکم پر ایف آئی آر درج کروائی، مگر پولیس گکھڑ ملزمان سے مل گئی،جس بارے ایس پی کمپلینٹسیل اور ڈی ایس پی سرکل وزیرآباد کو درخواستیں دے چکی ہوں،بوڑھی اور بیوہ ہوں کوئی آگے پیچھے نہیں مگر پولیس اہلکار خوار کر رہے ہیں،جبکہ پولیس گکھڑ نےگرفتار ملزمان سے ساز باز کرکے مبینہ طور پررشوت لیکر ناصرف گرفتار ملزمان چھوڑ دئیے،بلکہ میرا کیس دبانے اور صلح کیلئے دباﺅ ڈال رہی ہے ، میرا موقف ہے کہ پولیس گکھڑ میری مغویہ بہن شبانہ برآمد کرکے ملزمان گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے ،ایکسپریس کے رابطہ پر زبردستی شہری کے گھر گھسنے والا تفتیشی آفیسرمعطل شدہ اے ایس آئی – ب ا-سے بارہا رابطہ کے باوجود اپنا موقف دینے سے قاصر ہے

Leave your comment
Comment
Name
Email