گکھڑ کے نواح کوٹلی ساہیاں میں دو خواتین سمیت پانچ افراد کے قتل کا معاملہ

گکھڑ کے نواح کوٹلی ساہیاں میں دو خواتین سمیت پانچ افراد کے قتل کا معاملہ

گکھڑ منڈی (ڈاکٹر عصمت علوی) گکھڑ کے نواح کوٹلی ساہیاں میں دو خواتین سمیت پانچ افراد کے قتل کا معاملہ ، قاتل جاوید اقبال کی اہلیہ فاطمہ اشفاق کی مدعیت میں پولیس گکھڑ نے مقدمہ درج کر لیا،مقتولین میں ملزم قاتل جاوید اقبال چیمہ کے مقتول چچا فیاض احمد چیمہ کو کوٹلی ساہیاں جبکہ ملزم کی مقتولہ ساس ،دادی ساس اور دو جوان سالے انکے آبائی گاؤں جلال بلگن سپرد خاک، تفصیلات کیمطابق گکھڑ کے نواحی گاﺅں کوٹلی ساہیاں میں گزشتہ روز داماد کے ہاتھوں قتل ہونے والے پانچ افراد میں ملزم کی دادی ساس،ساس ،سالوں اور چچا کے قتل کا مقدمہ تھانہ گکھڑ میں درج کر لیا گیا ،ملزم جاوید اقبال کی اہلیہ فاطمہ اشفاق نے تھانہ میں تحریری موقف اختیار کیا کہ وہ جلال بلگن کی رہائشی اور اسکی شادی دو سال قبل کوٹلی ساہیاں کے رہائشی جاوید اقبال چیمہ سے ہوئی ،جس کے بطن سے ایک سال چار ماہ کا ارحم حیات ہے ،جس کا یہ کہنا ہے کہ میرا شوہر جاوید اقبال چیمہ ولد ظفر اقبال چیمہ اپنے بھائی سفیان چیمہ کے ہمراہ سلسلہ روز گار پر سعودیہ مقیم تھا اور اڑھائی ماہ قبل چھٹی پر پاکستان آیا ہوا تھا،کہ اس دوران ہفتہ قبل مورخہ 09/01/21 کو میری چھوٹی ہمشیرہ عائشہ کا میرے خاوند کے چھوٹے بھائی سفیان چیمہ سے ٹیلیفون نکاح ہوا، جس سے میرا خاوند جاوید اقبال اور اس کا والد ظفر اقبال ناخوش تھے ،کیونکہ میرا خاوند جاوید اقبال اپنے بھائی کی شادی اپنے دوست کی سالی سے کرانا چاہتا تھا،جس وجہ سے میرا خاوند اور سسر اس نکاح میں شریک نہ ہوئے مگر میرے خاوند کا چچا فیاض احمد چیمہ نکاح میں شریک ہوا،میرے خاوند کے شریک نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی اپنی بہن کے نکاح میں شریک نہ ہوئی ،جسکی میرے خاوند جاوید اقبال کو رنجش تھی ،اور وہ گزشتہ روز ہی سعودیہ واپس جانا چاہتا تھا ،جس نے میرے میکے گھر والوں کو ملنے اور واپس سعودیہ جانے سے قبل اپنے گھر کوٹلی ساہیاں دعوت پر بلانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی ،اور میرے میکے گھر جلال بلگن سے میری والدہ مہناز تبسم اشفاق،میرے دو بھائی احد اشفاق سولجر ،شاہد اشفاق اولکھ اور میری دادی پروین اختر میرے سسرالی گھر کوٹلی ساہیاں آئے ،جنکے لئے کھانا تیار کرکے بیڈ روم میں ہی کھلا رہی تھی ،اس دوران دو تین بار میرا خاوند جاوید اقبال چیمہ گھر سے باہر گیا ،کہ اس دوران میرا سسر ظفر اقبال گھر آیا اور آتے ہی اس نے للکارا مارا کہ مہناز اشفاق سے میرے بیٹے سفیان سے بیٹی کا نکاح کروانے کا بدلہ لو تو میرے اور میری بچی ساس منزہ بی بی کے سامنے ہی میرے خاوند نے گولیاں مار کر میرے میکے سے آئی میری والدہ مہناز تبسم اشفاق،دادی پروین اختر میرے دونوں بھائیوں احد اشفاق اور شاہد اشفاق پر گولیاں چلا دیں کہ موقع پر میری والدہ پنتالیس سالہ مہناز اشفاق ،میری دادی ستر سالہ پروین اختر موقع پر ہلاک جبکہ میرے بھائی احد اشفاق اور شاہد اشفاق ہسپتال جاتے دم توڑ گئے ، جبکہ جائے وقوعہ سے میرا خاوند جاوید اقبال اور اس کا والد ظفر اقبال بھاگے تو اس نے اپنی چچی ساس منزہ کے ہمراہ ان کا پیچھا کیا تو گلی میں میرے خاوند جاوید کا چچا فیاض احمد چیمہ کے ہونے پر ملزم جاوید نے اسے بھی گولیاں مار کر موقع پر ہلاک کر دیا، کہ بعد ازاں دونوں ملزمان گلیوں سے فرار ہوگئے،پولیس تھانہ گکھڑ نے مدعیہ فاطمہ اشفاق کی رپورٹ پر اسکے خاوند جاوید اقبال چیمہ اور اسکے والد ظفر اقبال چیمہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد نعشوں کا پوسٹمارٹم کروا کر نعشیں ورثاء کے حوالے کر دیں ،جنکے ایک میت فیاض احمد چیمہ جو ملزم جاوید اقبال کا چچا ہے اسے اسکے آبائی گاؤں کوٹلی ساہیاں ،جبکہ باقی چار مقتولین میں مدعیہ کی والدہ مہناز،اسکے بھائیوں احد اشفاق،شاہد اشفاق اور اسکی شادی کو انکے آبائی گاؤں جلال بلگن میں آہوں ،سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ،تاحال اس خاندانی رنجش کا کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا،پولیس گکھڑ مصروف تفتیش ہے
Leave your comment
Comment
Name
Email