انسانی مزاج ہے کہ جزااورسزاکے اطلاق کے مطابق عمل اختیار کرتا ہے (امیر عبدالقدیر اعوان)

انسانی مزاج ہے کہ جزااورسزاکے اطلاق کے مطابق عمل اختیار کرتا ہے (امیر عبدالقدیر اعوان)

گکھڑ (محمد گلشاد سلیمی)انسانی مزاج ہے کہ جزااورسزاکے اطلاق کے مطابق عمل اختیار کرتا ہے جہاں اس کو یقین ہو کہ قانون پر نفاذ ہوتے ہوئے جزااور سزا ملے گی اس معاشرے میں جرائم کی شرح بہت کم ہوتی ہے اوروہاں بہت حد تک امن ہوتا ہے اور یہ قوانین انسان کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اگر وہ قوانین جو اللہ کریم نے انسان کے لیے بنائے ہیں ان کو اگر ملک میں نافذ کر دیا جائے تو معاشرے میں واقعی عدل ہو گا مساوات ہوگی اور ہر ایک کیلیے بھلائی ہو گی اور زندگی کے ہر شعبے میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشنبدیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی استطاعت ہر پہلو سے مختلف ہوتی ہے جسمانی لحاظ سے دیکھ لیں یا ذہنی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ہرایک کی اپنی حیثیت ہوتی ہے اصل بات یہ ہے کہ ہمیں آخرت کی جزااور سزا کو سامنے رکھناہے اوراس کا اتنا یقین ہو کہ میرا ہر عمل اللہ کی حضور پیش ہونا ہے اور مجھے میر ے اعمال کے مطابق جزااور سزا ملنی ہے تو پھر بندے کا ہر عمل خالص اْس بارگاہ الہٰی کے لیے ہو گایہ تب ہی ممکن ہو گا جب ایمان بل ا?خرہ مظبوط ہوگا اور پھر جو عمل ظاہراً صالح ہو گا اور اس کی نیت کی درستگی سے باطنی طور پربھی نیک عمل کہلائے گااور جب عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر دنیا کی احتیاج نہیں رہتی اور اگر ہم اپنے سے پہلے جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں انکو دیکھیں تو ان کی قبروں کے نشان تک مٹ چکے ہیں تو پھر اپنے ا?پ کو بھی ان کی جگہ رکھ کر دیکھیں تو پھر ہمیں اصل زندگی کا احساس ہو گا آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس طرح دن ڈھل رہا ہو عصر کا وقت ہے اسی طرح اس دنیا کا وقت شام کے قریب پہنچ چکا ہے ہماری زندگی تو کسی بھی لمحے برزخ میں منتقل ہو سکتی ہے اللہ کریم ہمیں دارالعمل سے برزخ میں حالت ایمان سے داخل فرمائیں

Leave your comment
Comment
Name
Email