گکھڑ ریلوے اسٹیشن

گکھڑ ریلوے اسٹیشن

دور دراز کے علاقوں میں سفری سہولت کی فراہمی کی خاطر انگریز دور حکومت میں اٹھارویں صدی میں ریلوے لائن بچھائی گئی تو راستہ میں آنے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ قصبائی علاقوں میں بھی ریلوے اسٹیشن قائم کیے گئے۔ گکھڑ ریلوے اسٹیشن بھی اٹھارویں صدی کے وسط میں برٹش حکومت میں قائم ہوا۔ گکھڑ ریلوے اسٹیشن کا پہلا نام(گکھڑ چیمہ) تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی ریلوے اسٹیشن کا نام گکھڑ ریلوے اسٹیشن رکھ دیا گیا تھا۔شروع شروع میں یہاں صرف ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔جوصرف اسٹیشن ماسٹر کے لیے مخصوص تھا۔جس میں بکنگ آفس بھی قائم تھااور اس کے سامنے دو پرانے برآمدے بھی تھے جس مین دو کھڑکیاں تھیں۔جس کی ایک کھڑ کی سے مرد مسافر ٹکٹیں حاصل کرتے تھے اور دوسری کھڑکی سے خواتین مسافر ٹکٹیں حاصل کرتی تھیں سابقہ صدرپاکستان ایوب خان کے دور حکومت میں گکھڑ نام کے ساتھ لفظ منڈی کا اضافہ کیا گیا اور اس طرح گکھڑ ریلوے اسٹیشن کا نام بھی گکھڑ منڈی رکھ دیا گیا گکھڑ ریلوے اسٹیشن کی پرانی عمارت میں توسیع کر کے اس میں علیحدہ بکنگ آفس،خواتین اور مرد مسافروں کے لئے علیحدہ علیحدہ انتظار گاہیں اور بڑا ہال تعمیر کرنتے کے علاوہ پسنجر،پارسل،گڈزکلرک کے لئے الگ الگ کمرے بھی تعمیر کئے گئے اور اس کے سٹاف میں اضافہ کر کے ایک اسٹیشن ماسٹر،چیف بکنگ،بکنگ کلرک،ہیڈ ٹکٹ کلکٹر،چیف گڈز کلرک،اور دیگر عملہ بھی تعینات کر دیا گیا۔
قیام پاکستان سے قبل گکھڑ کا ریلوے اسٹیشن مصروف تریں اور کمرشل ریلوے اسٹیشن تھا۔جس میں پسنجر،پارسل،گڈز سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔گکھڑ اور گردو نواح کے ہزاروں مسافروں کی واحد سفری سہولت تھی گکھڑ کاروباری لحاظ سے بھی ایک بڑا مرکز تھا جس سے زرعی اجناس چاول،خربوزے،سورج مکھی،کے علاوہ دریاں،کھیس وغیرہ دوسرے بڑے شہروں میں برآمد ہوتے تھے سناہے کہ یہ ریلوے کمپنی (NWR) نے99 سال کے لئے Lease پر لیا تھا قیام پاکستان کے بعد بھی ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بھی بحال رہیں اسی دوران ہندوستان سے مہاجرین کی بڑی تعداد ریلوے کے ذریعے بھی یہاں آکر آباد ہوئی اس وقت ریلوے اسٹیشن پر تمام بڑی ٹرینوں کے سٹاپ ہو ا کرتے تھے جن کے ذریعے لوگ سفر کیا کرتے تھے لیکن اب یہاں صرف ایک بابو ٹرین کا سٹاپ ہے جو پہلے سیالکوٹ سے لاہوراورلاہور سے سیالکوٹ چلتی تھی پھر یہی ٹرین اب وزیرآبادسے لاہور اور لاہور سے وزیر آباد چلتی ہے

Leave your comment
Comment
Name
Email