بھوک تہذیب کے آداب مٹا دیتی ہے

بھوک تہذیب کے آداب مٹا دیتی ہے

کہاوت ہے کہ بھوک تہذیب کے آداب مٹا دیتی ہے۔ اس بات کو اگر کائناتی سچائی مان بھی لیا جائے پھر بھی یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ بات کن حالات کے پیش نظر کہی گئی۔آیا کہ قحط سالی ،جنگی حالات ، آسمانی آفات یا انسان کی خود پیدا کردہ بربریت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات میں انسانی تہذیب کی شکست خوردگی کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس کہاوت کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کہاوت میں بھوک کی جگہ “ہوس” لگا دیا جاتا کیونکہ دور حاضر میں اخلاقیات اور تہذیب کی دھجیاں بکھیرنے والی بھوک نہیں بلکہ ہوس ہے خیر اس کہاوت کی تکنیکی تراکیب موضوع بحث نہیں سو مدعا کی بات کرتے ہیں ۔ الحطیم کارن ملز (نزد اوجلہ پل جی ٹی روڈ گکھڑ ) تقریبا سال قبل قائم کی گئی۔جو کہ اس گروپ کی تیسری فیکٹری ہے یقینا کاروبار کرنا اور ترقی کی منازل طے کرنا ہر کاروبار کرنے والے کا خواب ہوتا ہےاور اس خواب کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرنا لازم ہے مگر مذکورہ فیکٹری مالکان نے ترقی و دولت کے حصول کے لئے تمام ضوابط اور قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔الحطیم کارن ملز سے نکلنے والے کیمیکل زدہ گندے بدبو دار مضر صحت پانی کو ریلوے کی اراضی پر چار کلو میٹر تک نالہ کھود کر گکھڑ کی آبادی سے گزرنے والے سیم نالہ میں لا پھینکا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان ریلوے کے معصوم حکام کو فیکٹری مالکان کی اس حرکت کے بارے کانوں کان خبر نہ ہوسکی اور وزیر آباد جنکشن سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر پندرہ دن ہیوی مشینری کے استعمال سے کئی فٹ گہرا نالہ کھود دیا گیا جب شہریوں نے اس بدبودار پانی سے تنگ آکر واویلا اور احتجاج کیا تو ریلوے حکام کے کانوں پر پھر بھی جوں تک نہ رینگی۔ بالآخر شہری کی طرف سے وفاقی محتسب آعلی گوجرانوالہ میں ایک درخواست گزاری گئی جس کی سماعت 30 مارچ کو ہوئی جس میں ریلوے حکام کی طرف سے کوئی بھی حاضر نہ ہوا جب ذرائع نے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ریلوے حکام میں سے سب انجینئر سعید افضل سے رابطہ کیا تو موصوف کے معصومانہ جواب سن کر راقم کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا فرما تے ہیں کہ ہم نے فیکٹری والوں پر ایف آئی آر درج کروا دی ہے اور نالہ میں فیکٹری کا پانی بند کروادیا ہے آواز کی شائستگی دیکھتے ہوے راقم موصوف کی بات پر یقین کر لیتا اگر خود موقع پر جا کر ساری صورتحال خود اپنی آنکھوں سے ملاحظہ نہ کی ہوتی اور راقم ابھی تک وہ ایف آئی آر بھی حاصل کرنے سے قاصر ہے جس کا ذکر موصوف نے اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں فرمایا، یاد رہے وفاقی محتسب آعلی گوجرانوالہ میں ریلوے حکام کی طرف سے موصوف ہی سماعت میں نمائندگی فرما رہے ہیں جبکہ مذکورہ نالہ اپنی پوری طغیانیوں کے ساتھ ابھی تک رواں دواں ہے۔تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں تو حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ فیکٹری مالکان نے لاکھوں کی لاگت اور ہیوی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ایک یا دو دن میں یہ کام مکمل نہیں کیا بلکہ پورے پندرہ دن میں ریلوے کی اراضی کو باپ دادا کی جاگیر سمجھتے ہوئے پوری جانفشانی سے کام کرتے ہوئے اس پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جس کا علم ریلوے حکام کو نہ ہو ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اصل میں ریلوے حکام کی ملی بھگت کے بغیر چار کلومیٹر تو دور کی بات ہے ایک فٹ کھدائی بھی نہیں کی جا سکتی۔ جب خربوزوں کی رکھوالی گیڈروں کے سپرد کر دی جائے تو ایسے حالات پیدا ہو جانا بعید از قیاس ہرگز نہیں۔ وفاقی محتسب آعلی گوجرانوالہ میں اگلی سماعت 6 اپریل 2021 کو ہوگی ریلوے حکام کی طرف سے کیا موقف سامنے آتا ہے یہ آنیوالے دنوں میں ہی پتہ چل سکے گا۔ ویسے فیکٹری سے نکلنے والے فضلے اور گندے پانی کی روک تھام کیلئے دیگر محکمہ جات بھی براہ راست کاروائی کر سکتے تھے جن میں محکمہ تحفظ ماحول گوجرانوالہ، پنجاب فوڈ اتھارٹی ،ٹی ایم اے وزیر آباد اور کمشنر گوجرانوالہ شامل ہیں ان کی خاموشی پر میں بھی خاموش ہی رہونگا گا جب تک مستند معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں۔ چھوڑیں قارعین۔۔۔! آپ تو سنجیدہ ہی ہو گئے ہیں اب محکمہ جات اتنے بھی ویلے نہیں کہ ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں وقت ضائع کریں۔ گوجرانوالہ کی معروف سیاسی شخصیت غلام دستگیر خان کی کوٹھی سے تھوڑا سا آگے ڈیلٹا روڈ پر بابا فرید برگر اینڈ باربی کیو کے نام سے فاسٹ فوڈ پوائنٹ واقع ہے جو عرصہ دراز سے برگر اور شوارما فروخت کر رہے ہیں اور تقریبا پورا شہر ان کے نام سے اچھی طرح واقف ہے چند روز قبل اس شاپ سے برگر اور شوارما کھا نے سے درجنوں خاندان ہسپتال جا پہنچے اور چار چار، پانچ پانچ دن ہسپتال داخل رہنے اور علاج معالجہ پر ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد زندہ سلامت گھر واپس آنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس پر ان خاندانوں کو دوبارہ نئی زندگی ملنے پر مبارکباد ہی دی جا سکتی ہے کیونکہ جس کے پاس پیسہ ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ان سرمایہ داروں کے سامنے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ٹھہر سکتا ہے اور نہ ہی اس ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے قانون بھی سامنے والے کا فنانشل سٹیٹس دیکھ کر ہی حرکت میں آتا ہے۔دو سو چار سو کی چوری کرنے والے جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور فراڈ سے لوگوں کی جیبوں سے اربوں روپے لوٹنے والے وائٹ کالر “چور” معززین شہر کہلائے جا رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اصل معززین شہر کی مجرمانہ خاموشی ان عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔ سعود الحسن محکمہ تعلیم میں ایک متوسط ملازم ہے جس کے چار بچے جن میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں مذکورہ شاپ سے برگر اور شوارما کھا نے کے بعد حالت غیر ہونے پر1122کی مدد سے چار دن تک گوندل ہسپتال میں داخل رہے۔کم آمدنی والے کمزور باپ نے اپنی ساری اولاد کو اکٹھے ہسپتال جا پہنچنے پر پریشانی اور کوفت کے ساتھ ساتھ اپنی جمع پونجی بھی اپنی اولاد کی زندگی بچانے کے لئے لوٹا دی اور اس بات پر شکرانے کے نوافل ادا کیے کہ اس کے چاروں بچے موت کو شکست دینے اور زندہ واپس گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے وقت نہیں اور اگر وقت ہو بھی تو بابا فرید برگر اینڈ باربی کیو پر لگی وکلاء اور سینئر صحافیوں کی تصاویر للکار کر کہ رہی ہیں۔ خبردار۔۔۔۔! اگر کسی ڈیپارٹمنٹ نے ادھر آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو ۔۔۔۔۔!اب محکمہ جات میں بھی تو ہمارے جیسے بھائی ہیں ان کے بھی بچے ہوتے ہیں اب وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے لوگوں سے دشمنیاں مول لینے سے تو رہے۔ویسے بھی اللہ نے جان بخشی کر دی ہے اب اتنی سی بات پر ایوانوں میں ہلچل تو مچنے سے رہی ۔آج کل ماسٹر گروپ آف انڈسٹریز والوں کا نیا پراجیکٹ کافی مقبول ہو رہا ہے جس میں سبز باغات دکھانے کے جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں شیخ محمود اقبال کا نام گوجرانوالہ کی کاروباری برادری میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے اور اب تو انہوں نے کاروبار کو نیا رنگ دیتے ہوئے اپنے دوسرے کاروباری ساتھیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے بغیر کسی پروڈکٹ کے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کی آمدن حاصل کرنا صرف شیخ محمود اقبال کا ہی فن کمال ہے کاغذ اور کتے پر ایک خوبصورت ہاؤسنگ سوسائٹی کا نقشہ بنوایا اور تشہیر شروع کر دی بات صرف یہاں تک رہتی تو شاید قابل برداشت ہوتی مگر یہ کیا۔۔۔؟ موصوف نے تو اس نقشے پر فرضی پلاٹوں کو باقاعدہ دفتر بنا کر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ خوبصورت نام “لے پیرس” کہتے ہیں دھوکا ہمیشہ خوبصورت اور دلفریب ہی ہوتا ہے۔دیدہ زیب اور خوبصورت ہورڈنگ بورڈز سے پورے شہر کو بھر دیا گیا۔ گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس منصوبے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے عوام الناس کو ایک اشتہار کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے اپنا سرمایہ ضائع نہ کرنے اور متعلقہ فرم کو تشہیر اور فروخت بند کرنے کا واضح حکم دیا تھا لیکن پھر وہی بات کہ قوانین صرف غریب عوام کے لیے ہوتے ہیں کسی غریب ریڑھی بان نے جی ڈی اے کی جگہ پر ریڑھی لگائی ہوتی تو درجنوں مقدمات کی زد میں ہوتا۔ لیکن یہاں معاملات اور ہیں جی ڈی اے نے بھی شیخ محمود اقبال کے خلاف صرف ایک اشتہار پر ہی اکتفا کرتے ہوئے اپنا محکمانہ اور قومی فریضہ ادا کر دیا اور اپنی آخرت سے مطمئن ہوگئے۔ ضلعی حکومت کی ناک کے نیچے جس طرح کھلے عام ان فراڈ گتوں(سرٹیفکیٹ) کی فروخت جاری ہے اس سے لگتا ہے یا تو ضلعی حکومت نااہل ہے یا بد دیانت۔یاد رہے یہ صرف ایک گتہ ہی ہے جس کی چھپوائی پر زیادہ سے زیادہ 25 روپے لاگت آئی ہوگی اور مارکیٹ میں 125000 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے کروڑوں کے لاٹری انعامات کا جھانسہ دے کر اب تک اربوں روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں نیب حکام ان سے ڈیٹا طلب کر کے چیک کریں گے تو یقینا کھربوں کا سرمایہ ان کی تجوریوں سے برآمد ہو گا۔شدید حیرت اس بات پر ہے کہ نیب ابھی تک خاموش اور لاتعلق کیوں ہے۔ ہمارا ملک پہلے ہی مالیاتی بحرانوں کی زد میں ہے اگر اس فراڈ منصوبے کو آہنی ہاتھوں سے نہ روکا گیا تو ڈبل شاہ فراڈ سے اس علاقے کی اکانومی جس بری طرح متاثر ہوئی تھی لوگ اس کو بھول جائیں گے۔ اور اس گوجرانوالہ کے سب سے بڑے اور منظم فراڈ سے علاقہ کم از کم سو سال پیچھے جا پڑے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان اس علاقہ کی اکانومی پر رحم کرتے ہوئے اس پر از خود نوٹس لے کر اس فراڈ اسکیم کو روکیں اور اب تک جو اربوں کھربوں روپے لوٹےجاچکے ہیں وہ واپس دلائے جائیں کیونکہ گوجرانوالہ کی معیشت میں جو پیسہ گردش کر رہا ہے وہ اس فراڈ منصوبے “لے پیرس” کے ذریعے شیخ محمود اقبال کی تجوریوں میں سمٹ رہا ہے ۔

  • Jawad Malik

    Jawad Malik

    January 28, 2021

    Great Tarar Sahib ♥️

  • Ali Haider Tarar

    Ali Haider Tarar

    January 28, 2021

    Masha Allah mujhy buht acha lga ap na yh fallahi kaam shuru kiya . Mn bhi Tarar hu. Aur mari bhi yh dil chahta hn ka yh welfare buht agy jaay . Mn Ranmal Sharif ( Nosho Pak ) ka rahny wala hu. Mn abhi parh rha hu.

  • شہزاد احمد تارڑ

    شہزاد احمد تارڑ

    January 28, 2021

    تمام دوستو سے گزارش ہے کہ اس پر اپنی اپنی رائے کا اظہار ضرور فرمائیں بیت شکریہ

Leave your comment
Comment
Name
Email