طارق محمود طارق

طارق محمود طارق

طارق محمود طارق 18.06.1967 کو گکھڑ کے نواحی گاؤں پیر کوٹ میں پیدا ہوئے. اپنا تخلص طارق کرتے ہیں ۔گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازم بھرتی ہو گئے. صوفیانہ شاعری سے بہت لگاؤ رکھتے ہیں اور خود بھی بہت اچھے شاعر ہیں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں مشق سخن کرتے ہیں ۔ صوفیانہ رنگ ان کی شاعری میں جھلکتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ بہت اچھے حکیم ہیں اور اپنا مطب بھی چلا رہے ہیں. بہت سے ادبی جرائد میں ان کا کلام چھپتا رہا ہے. گکھڑ کی دھرتی کو اپنے اس سپوت پہ ناز ہے

تعارف کے طور پر ان کا کچھ کلام پیش خدمت ہیں

غزل


ساحلِ عشق بھی پارے کا کنارہ نکلا
موج در موج کہاں تنکا سہارا نکلا


کل مرے گھر کی فصیلوں پہ اجالا کم تھا
چودہویں رات میں جب چاند بھی سارا نکلا


مجھ کو لگتا تھا کہ اپنے تو میرے اپنے ہیں
کی جو تحقیق تو ہر شخص تمہارا نکلا


جان بھی، دل بھی، محبت بھی اسی کے نکلے
ہائے اس شہر میں کچھ بھی نہ ہمارا نکلا


جل گئیں ساری زمینیں بھی فلک بھی سارے
آتشِ ہجر سے جب ایک شرارہ نکلا


یار کے ہاتھ سے حرفِ جلی میں ہاتھوں پر
جیت لکھوا کے بھی ہر عاشق ہارا نکلا

پیار کے شہر میں کچھ ایسے ستم برپا تھا
کانچ کا شخص بھی اک قلب کا خارا نکلا


اس طرح آۓ ہیں ہم لوگ تیری دنیا میں
جس طرح چرخ پہ اک صبح کا تارا نکلا
طارق محمود طارق


غزل


وہ چلے ہیں طور پر شمعیں جلانے کےلئے
ہم بھی نکلے ہیں جگر اپنا لٹانے کے لئے


دیکھتے ہیں کیا نکلتا ہے نتیجہ آج شب
آگ ھے بھڑکی سمندر کو جلانے کے لئے


جس قدر بھی تیز ھو، ہم آتشِ نمرود میں
کود جائیں گے انا اپنی بچانے کے کئے


سوۓ قرباں گہ چلے ہیں ابنِ ابراھیم بھی
خواب کی تعبیر کو رنگیں بنانے کے لئے


کون ان کو روک سکتا ھے، دیارِ دشت کو
جو پرندے چل پڑے ہیں گھر بنانے کے لئے


بار ہا دیکھا ہے ہم نے مسجِدوں میں بھی یہ شیخ
سر جھکاتے ہیں سبھی سب کو دِکھانے کے لئے


اے رے زاہد کر وہ سجدہ زندگی کی سانس پر
جس کی دے دنیا مثالیں ہر زمانے کے لئے


روٹھنے کی وہ اگر پاتے ہیں لذت بار بار
بے مزہ ہم بھی نہیں رہتے منانے کے لئے


یار سے ملنے کی خاطر حشر بھی برپا کیا
اور یہ دنیا بنائی پیار پانے کے لئے


آ ج پھر طارق بلا سارے زمانے کے حکیم
دل کے زخموں پر کوئی مرہم لگانے کے لئے
طارق محمود طارق


غزل


بڑا ہی کرب ملتا ہے ہمیں تیری جدائی سے
ملو گر تم تو کیا مطلب ہمیں ساری خدائی سے


ملی ہے چشمِ بینا لاکھ ہا محفل نشینوں کو
تمہارے چاند سے چہرے کی اک پردہ کشائی سے


ہزاروں عاشقوں میں ہے بچا کوئی مجھے بتلا
تری برقی نگاہوں کی مچلتی روشنائی سے


ہماری بات بھی سن لے ذرا رخ پھیرنے والے
ہمارا خون جلتا ہے تمہاری کج ادائی سے


جگر پر تیر چلتے ہیں سکوں بھی جاں چھڑاتا ہے
ہوئے اپنے بھی بیگانے تری بے اِعتِنائی سے


غمِ ہجراں ہے آنسوں ہیں اکیلا پن ہے یادیں ہیں
ملا مجھ کو بتا کیا ہے تری اس آشنائی سے


کرِشمہ کونسا ہے آپ کے جلوؤں میں بتلائیں
کہ زاہد بھی ھوا بیزار اپنی پارسائی سے


گواہوں میں ہے طارق بھی گواہ اس بات کا ہمدم
پتنگے جان سے گزریں تری جلوہ نمائی سے
طارق محمود طارق


غزل


دل کی بات زباں پر لانا کتنا مشکل ہوتا ہے
سب سے اپنی بات چھپانا کتنا مشکل ہوتا ہے


جب اُٹھ جائیں بے تعبیرِ خواب سہانے پہلو سے
بن لوری کے ان کو سلانا کتنا مشکل ہوتا ہے

جس کی یاد جوالا بن کر رگ رگ کو تڑپاتی ہو
دل سے اس کی یاد بھلانا کتنا مشکل ہوتا ہے


جو سوچوں پر نقش ہوا ہو تنہائی کے حجرے میں
سانسوں سے وہ نقش مٹانا کتنا مشکل ہوتا ہے


جسم سجانے کی خاطر یہ زر زیور سب ملتے ہیں
دل کے اجڑے باغ بسانا کتنا مشکل ہوتا ہے


تن کی دولت جس کو چاہے دی جا سکتی ہے جگ میں
من کی دولت سب پہ لٹانا کتنا مشکل ہوتا ہے

جب اقرار محبت والا وعدوں تک رہ جاتا ہے
دور تلک پھر ساتھ نبھانا کتنا مشکل ہوتا ہے


جن کو آنکھ سے پینے کے آداب نہیں کچھ آتے ہیں
ان کو اک بھی جام پلانا کتنا مشکل ہوتا ہے
طارق محمود طارق


غزل


تماشا عشق و مستی کا لبِ دریا نہیں ہوتا
فریبِ موج کیا جانے جو خود ڈوبا نہیں ہوتا


شناور نے کیا یہ منکشِف اک راز ساحِل پر
سفینہ ڈوبتا ہے نا خدا جس کا نہیں ہوتا


کصّدّف کے جوف میں جب تک رہے نا قطرۂ نیساں
ہزاروں سال میں بھی وہ دُرِ اعلیٰ نہیں ہوتا


خرد پینے پِلانے سے ازل سے ہی ڈراتی ہے
جو پہلو میں ہو دل زندہ تو پھر کھٹکا نہیں ہوتا


سنو اے صاحِبِ دانِش بتاؤں کیا حقیقت ہے
خیالِ یار میں ڈوبا ہوا بھٹکا نہیں ہوتا


جسے ہو آشنائی دو جہانوں لا مکانوں سے
چُھپا اس سے تو کوئی ایک بھی تِنکا نہیں ہوتا

ترے لطف و کرم کا نور ہو جس کے بھی سینے میں
منال و مال میں وہ آدمی الجھا نہیں ہوتا


دیارِ عشق میں منزِل وہ طارق پا نہیں سکتا
جو عاشق کاروانِ شوق کا پالا نہیں ہوتا
طارق محمود طارق


پنجابی کلام


میں قسمت دے تارے لیکن لگا واں
اپنا جسہ آپ دھریکن لگا واں


بڈھے ویلے میری نیندر ٹٹی اے
بال ایانے وانگوں چیکن لگا واں


ساون دی ترہیائی چادر موہنڈے تے
کوٹھا چوندا ویکھ کے گیہکن لگا واں


جیہڑی ماں دیاں اکھاں رہیاں سہکدیاں
موئی اے تے فیر اڈیکن لگا واں


لوکی اوہنوں یوسف ثانی کہندے نیں
مینوں پچھدیے تینوں کیکن لگا واں

میں جسے تے پان چڑھائی دھوکے دی
تائیں تینوں میں امریکن لگا واں
طارق محمود طارق


غزل


ساہواں دی میں کندھ پساری پانی تے
مٹی دی میں پنڈ کھلاری پانی تے


گوڈے گوڈے آخر آئی سیکاں نوں
ننگے پنڈے لائی تاری پانی تے


آتش وی سی، شمع وی سی، سورج وی
جد پروانے جندڑی ہاری پانی تے

پتھر بن کے پانی فیر کھلوتا سی
تیری جُو تصویر اتاری پانی تے


نوح نبی نوں جبرائیل نیں فرمایا
بیڑے دی ہن کرو تیاری پانی تے


پلہہ پھڑ لے اج وی کِھہن ہارے دا
کرنی اں جے مینا کاری پانی تے


لہراں نیں فر آپ کنارے سٹی اے
لاش کسے دی ہو گئی بھاری پانی تے


طارق محمود طارق

Leave your comment
Comment
Name
Email