شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔پہلے 30 سال ہم نے اللہ کے بنائے ہیپاٹائٹس C وائرس کو جھٹلایا،جہالت سے پھیلایا۔پھرکافروں کے بنائے لاکھوں کے انجیکشن لگوائے، سوالڈی ٹیبلٹ کھائی اورجگر تک بدلوائے۔نیم حکیموں اور عاملوں کے ستائے لاکھوں مریض خون کی الٹیاں کرتے موت کے منہ میں چلے گئے جنہیں یہ گولی نصیب نہ ہوئی۔ لاکھوں روپے کے ٹیسٹ اور ہیپا ٹائیٹس Bکی ویکسینیشن تک لگوا لی۔اب کورونا کو اپنے پھیپھڑوں میں لئے پھر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ:ایویں گل بنی اے۔ہیپا ٹائیٹس کے علاوہ خسرہ،سوائن فلو،برڈ فلو،انبولہ وائرس،کانگو وائرس، ٹی بی،آشوب چشم،پولیو سمیت بے شمار چھوت،وبائی اور متعدی امراض ہیں جنکی ویکسینیشن سرکاری سطح پر کی جاتی ہے اور کچھ امراض کی ویکسینیشن پر تجربات جاری ہیں۔الغرض یہ تمام بیماریاں انسانیت سے صفائی،ستھرائی اور احتیاط کا تقاضہ کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں الحمدللہ کورونا انتہائی مہلک ثابت نہیں ہوا مگر پھر بھی ان احتیاطوں سے ہم مندرجہ بالا تمام وبائی امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔میں نے لکھ دیا ہے آپ بھی کہیں لکھ لیں!اب پہلے کی طرح گندہ رہنے،غلاظتیں اور بیماریاں پھیلانے کی آزادی کے دن گئے۔اب وقت ہے صفائی کے نصف ایمان کو اپنانے اور اسے رائج کرنے کا۔اللہ ہمیں ریسرچ،تحقیق،شعور،آگاہی،احتیاط،صفائی اور اہلیان عقل و دانش و علم کا احترام اور قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔ فیصل افضل

Leave your comment
Comment
Name
Email